بھٹکل 28 اپریل (ایس او نیوز) بھٹکل جامعہ آباد میں الجامعہ اسپورٹس سینٹر کے قیام کے پچیس سال مکمل ہونے پر سلورجوبلی کا ایک شاندار پروگرام منعقد ہوا جس میں مختلف میدانوں میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے علاقہ کے نوجوانوں ، بزرگوں اور طلبہ و طالبات کو انعامات و اعزازات سے نواز ا گیا۔
پروگرام میں مقررین نے سماج میں پھیلی مختلف برائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کے تدارک کی طرف توجہ دلائی وہیں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ قران میں علم حاصل کرنے سے مراد اُس علم کو حاصل کرنے کے لئے کہا گیاہے جو انسان کو انسان بنائے۔ وہ علم کام کا نہیں جو مال و متاع کے حصول کے لئے حاصل کیا جاتا ہو۔ اس تعلق سے پُرزور خطاب کرتے ہوئے بھٹکل جامعہ اسلامیہ کے مہتمم مولانا مقبول کوبٹے ندوی نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ خالق کو مخلوق سے جوڑنے والا علم حاصل کریں۔ مولانا کے بقول ہمارادین علم کی تفریق نہیں کرتا،قران ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی دونوں طرح کے علم حاصل کرنے کی تعلیم دیتا ہے، مگر وہی علم انسانوں کے لئے مفید ہوگا جو انسان کو اپنے خالق سے جوڑے رکھے، اگر ہم اس علم کو حاصل کرکے اللہ کے بتائے ہوئے طریقے اور اُصولوں سے ہٹ کر زندگی گذاریں گے تو پھر یہ علم نہ صرف اُس کی خود کی ذات کے لئے بلکہ پوری انسانیت کی تباہی و بربادی کا ذریعہ بن جائے گامولانا نے آگے فرمایا کہ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کا علم ضرور حاصل کریں مگر ہمارا علم ہمیں اپنے خالق سے جوڑے رکھے۔ہمارے حاصل کئے گئے علم سے پوری انسانیت کی خدمت کا جذبہ دل میں پیداہو۔ایسا علم اگر ہمارے اندر ہوگا تو ہم ترقی کریں گے۔ مولانا نے اپنے خطاب میں اس بات پر بھی زور دیا کہ علم کو اہل علم سے حاصل کریں اور اپنے آپ کو اہل علم سے جوڑے رکھیں۔
پروگرام میں مہمان خصوصی کے طورپر تشریف فرما مولانا ابوالحسن ندوی اسلامک اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولوی الیاس جاکٹی ندوی نے شاندار پروگرام کے انعقاد پر ذمہ داران کی سراہنا کرتے ہوئے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ جامعہ اسلامیہ (مدرسہ) کی مناسبت سے یہاں کے نوجوانوں نے اپنے اسپورٹس سینٹر کا نام بھی الجامعہ رکھا ہے۔ موصوف نے بچوں، نوجوانوں ، بزرگوں یہاں تک کہ مرحومین کی خدمات کو بھی یادکرتے ہوئے اُن کی خدمات کے اعتراف میں اُن کی بھی تہنیت کرنے پر بھی الجامعہ کے ذمہ داران کی سراہنا کی اور اس پروگرام کو تیگنگونڈی کا تاریخی پروگرام قرار دیا۔
مولوی الیاس صاحب نے اپنے خطاب میں الجامعہ کے نوجوانوں کو کافی مشورے بھی دئے ۔اپنے خطاب میں مولوی الیاس جاکٹی ندوی نے موبائل اور وہاٹس ایپ آنے کے بعد سماج میں تیزی کے ساتھ پھیل رہی بے حیائی، بداخلاقی اور ایمان سوز واقعات رونما ہونے پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ موبائل ہی آج تمام برائیوں کی جڑ بنتاجارہا ہے، انہوں نے والدین کو تاکید کی کہ جب تک لڑکے کے تعلیم مکمل نہیں ہوجاتی اور وہ یونیورسٹی سے فارغ نہیں ہوجاتا، اُس وقت تک اُس کے ہاتھ میں موبائل نہ دیا جائے اسی طرح جب تک لڑکی کی شادی نہیں ہوجاتی ، اُس وقت تک اُسے موبائل سے دور رکھا جائے۔ساتھ ساتھ انہوں نے مسلمانوں کو پانچوں وقت کی نماز کی پابندی کی طرف بھی توجہ دلائی ۔
اس سے قبل عصر کی نماز کے فوری بعد پروگرام کی پہلی نشست کا آغاز ہوا، جس کی صدارت جناب آدم حُسین کاوا نے کی، مہمان خصوصی کے طور پر مولانا اسماعیل ڈانگی ندوی (امام و خطیب جامع مسجد سیدنا ابراہیم ۔ جامعہ آباد) اور اعزازی مہمان کےطور پر ہیبلے گرام پنچایت صدر این ڈی موگیر، نائب صدر علی ادم اِبّو، جامعہ آباد کے مشہور تاجر مکند نائک، رادھا کرشنا سمیت کافی دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔
جناب یوسف ملا نے مہمانوں کا استقبال اور تعارف پیش کیا اور جناب عرفان کمپا نے کنڑا میں الجامعہ کا رپورٹ پیش کیا ۔اس موقع پر این ڈی موگیر نے بہت سی مفید باتیں بتاتے ہوئے اس جلسہ کو ہندو مسلم ملاپ اور ان کے درمیان محبت و الفت کا ذریعہ بتایا اس موقع پر واٹر سائیکل بنانے والے ہیبلے گرام کےایک طالب علم کو انعام سے نوازا گیا اس کے ساتھ ساتھ گرو کرن نامی طالب العلم کو بھی تعلیم کے میدان میں بہترین کارکردگی پر انعام سے نوازا گیا اس موقع پر مولانا اسماعیل ڈانگی ندوی نے تعلیم کی اہمیت پر تفصیلی بات کرتے ہوئے عوام کو دینی تعلیم کی طرف توجہ دلائی ۔ اس نشست میں نظامت کے فرائض جناب امجد ابو اور جناب سہیل مختصر نے انجام دئے۔
بعد میں دوسری اور اہم نشست بعد نماز عشاء منعقد ہوئی جس کی صدارت محمد غوث موسیٰ بنگالی نے کی۔اس نشست کا آغاز عزیزم شہنواز حسین عباس دڈی کے تلاوتِ کلامِ سے ہوا ارشاد عثمانی نے تلاوتِ کلامِ پاک کا ترجمہ پیش کیا میراں بنگالی نے خوبصورت آواز میں حمد پیش کی ، مولوی عبدالعلیم ابو ندوی نے مہمانوں کا استقبال اور تعاروف پیش کیا ۔ عبدالوہاب ندوی شیروری نے بزبان ناخدا میں نظم پیش کی ۔ اسٹیج پر مختلف کاروائیوں کے بعد محترم المقام جناب حافظ عبدالقادر ڈانگی، جناب آدم کاوا، جناب علی ابو، جناب آدم حسین چاوس کی علاقہ میں کی گئی خدمات کے اعتراف میں تہنیت کی گئی۔ پروگرام میں سہیل مختصر نے بڑے پیارے انداز میں ترانہ الجامعہ اسپورٹس پیش کیا ۔حُسین د دڈی نے الجامعہ اسپورٹس کی رپورٹ پیش کی۔ مولانا سعود صاحب بنگالی ندوی اور مولانا اسحاق ڈانگی ندوی نے مختصر وقت میں مفید باتوں سے نوازا۔
پروگرام کو مزید دلچسپ بنانے اور حاضرین کو محظوظ ہونے کے لئے قرعہ اندازی کے ذریعے انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔ مولوی طلحہ علاوہ جامعی مولوی اسماعیل پوتکار ندوی اور امجد ابو نے دوسری نشست کی نظامت سنبھالی۔جناب صلاح الدین ابو نے مہمانوں، سامعین اور دیگر حضرات کا شکریہ ادا کیا اور آخر میں مرکزی جماعت المسلمین تینگن گنڈی بھٹکل کے صدر جناب سلیمان بنگالی کی دعا پر جلسے کا اختتام ہوا۔